ووکیشنل ٹریننگ کے اختتام پر شرکاء کے لئے اعزازی تقریب

تقریب کے موقع پر ایک خاتون کو سلائی مشین کا تحفہ دیا جا رہا ہے

تقریب کے موقع پر ایک خاتون کو سلائی مشین کا تحفہ دیا جا رہا ہے

1 اگست کو گوادر میں ووکیشنل ٹریننگ حاصل کرنے والی خواتین اور نوجوانوں کے اعزاد میں تقریب کا انعقاد ہوا۔ یہ ٹریننگ وزیرِ اعظم کے پروگرام برائے نوجوانان کے تحت ہوئی جس کی میعاد چھ مہینے تھی۔ ٹریننگ کے دوران خواتین کو سلائی کڑھائی اور نوجوانوں کو کمپیوٹر کی ٹریننگ دی گئی۔

ٹریننگ کے اختتام پر منعقد اس تقریب کے مہمانِ خصوصی گوادر میونسپل کمیٹی کے چئیرمین عابد رحیم سہرابی اور آر سی ڈی سی کے صدر حاجی خدا بخش اور نائب صدر عبداللہ بلوچ تھے۔ تقریب میں خواتین اور نوجوانوں کو محنت سے ٹریننگ حاصل کرنے پر داد دی گئی اور انہیں اعزازی سرٹیفیکیٹ دئیے گئے۔ اس موقع پر خواتین میں سلائی مشینیں بھی تقسیم کی گئیں۔

ٹریننگ لینے والے ایک نوجوان کو اعزازی سند دی جا رہی ہے

ٹریننگ لینے والے ایک نوجوان کو اعزازی سند دی جا رہی ہے

مقررین نے اس موقع پر کہا کہ جن لوگوں نے یہ ٹریننگ حاصل کی ہے، اب ان کے پاس کامیاب ہونے کے لئے ایک ہنر ہے اور اس ہنر کو استعمال کرتے ہوئے وہ اپنے لئے ایک کیرئیر بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کے لوگوں میں بھرپور شعور ہے اور انہیں مختلف ہنر سکھانے کی ضرورت ہے تاکہ ملازمت کے نہ ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خصوصا ہماری ماؤں، بہنوں اور بچیوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر سیکھنا چاہئیے تاکہ وہ کڑے وقت میں کسی کی محتاج نہ ہوں۔ اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ اگر نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں نہ بھی ملیں تو وہ اپنے ہاتھوں سے ہی اپنا روزگار کما سکتے ہیں۔

تقریب میں موجود نوجوانان اور خواتین

تقریب میں موجود نوجوانان اور خواتین

مقررین نے خواتین کے حوالے سے کہا کہ خواتین پاکستان میں ہر جگہ محرومی کا شکار ہیں، تعلیم اور ہنر نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا شکار ہیں۔ اس ٹریننگ سے خواتین معاشرے میں خوددار طریقے سے اپنا مقام بنا سکتی ہیں اور انہیں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تقریب میں موجود خواتین نے بہت ہمت دکھائی ہے اور انہوں نے غربت کو شکست دی ہے۔

اس موقع پر مقررین کا مزید کہنا تھا کہ اگر نوجوانوں اور خواتین کے ارادے پختہ ہوں، اور اگر انہیں اچھے اداروں کی سرپرستی ملے تو وہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم قدم ہو کر خود ترقی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان بچیوں پر فخر ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے سلائی کڑھائی سیکھ کر غربت کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

About سلیمان ھاشم