چائنہ پیس اینڈ ڈویلیپمنٹ اتھارٹی کے وفد کا دورہ گوادر

تقریب کے موقع پر وفد کے ارکان اور گوادر ضلعی انتظامیہ کے لوگ سٹیج پر موجود ہیں

تقریب کے موقع پر وفد کے ارکان اور گوادر ضلعی انتظامیہ کے لوگ سٹیج پر موجود ہیں

30 جولائی کو چائنہ پیس اینڈ ڈویلیپمنٹ اتھارٹی (CPADA) کے ایک وفد نے گوادر کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران وفد کے مختلف ممبران نے مقامی مسائل کے حوالے سے بات چیت کی اور اس بات کا اظہار کیا کہ چین گوادر کے مقامی مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

اس موقع پر گوادر ڈویلیپمنٹ اتھارٹی نے وفد کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا جس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد جان رضا، اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر عبد الوہاب سمیت گوادر سے تعلق رکھنے والے مختلف کونسلران اور افسران نے شرکت کی۔

تقریب کے دوران  CPADA کے پاکستانی ممبر جناب درانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی قوم کی ترقی پڑے شاپنگ مال اور عمارتیں بننے سے نہیں ہوتی بلکہ وہاں کے مقامی افراد کی ذہنی پسماندگی کو دور کرنے اور تعلیم و تربیت دینے کا نام حقیقی ترقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر میں بہت سارے بڑے چیلنج ہیں جن پر ہمیں گوادر کے عوام کے ساتھ مل کر قابو پانا ہے۔ مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے گوادر میں بجلی اور پانی کے بجران پر بھی بات کی۔

CPADA کے ایک اور ممبر جی پینگ کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان کے عوام ایک دوسرے کے تعاون کے ساتھ ہی ترقی کی راہیں طے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین گوادر کو عوام کو مختلف قسم کی ٹریننگ دیں گے تاکہ گوادر کے عوام مختلف پروجیکٹز کو خود بہتر انداز میں چلا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم اولین ترجیح ہے اور تعلیم کے ترویج کے لئے ہم گوادر پورٹ اتھارٹی کے ساتھ مل کر کام رہے ہیں۔ انہوں نے فخر سے بتایا کہ کسی زمانے میں شنگھائی ایک جنگل تھا مگر پھر وہاں کے لوگوں نے اپنی محنت سے اسے ایک بڑا شہر بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ چند سال میں گوادر بھی شنگھائی کی طرح ایک جدید شہر ہوگا۔

وفد کے ایک ممبر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے

وفد کے ایک ممبر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے

اس موقع پر ضلعی چئیرمین بابو گلاب نے وفد کے شرکاء کو گوادر آنے پر خوش آمدید کہا اور چینی حکومت کے اس اقدام کو سراہا کہ وہ گوادر کے پانچ طلباء و طالبات کو سکالرشب جنکہ مزید بہت سے نوجونوں کو ٹریننگ مہیا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قوموں کی ترقی کا راز علم و آگہی میں ہے اور چینی حکومت کے ان اقدامات سے گوادر میں غربت اور افلاس میں کمی آئے گی۔

ضلعی چئیرمین نے مزید کہا کہ CPADA کے دوستوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنا دفتر جلد کراچی سے گوادر منتقل کریں گے، جس سے یہ فائدہ ہوگا کہ وہ ہماری عوام سے قریب تر ہوں گے اور انہیں ان کے مسائل سمجھنے کا موقع ملے گا۔

CPADA کے پاؤ شنگ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ چینی حکومت گوادر کو ایک خوبصورت شہر بنانا چاہتی ہے اور وفد کے اس دورے کا مقصد لوگوں کی سماجی موبلائزیشن کرنا اور موبوط ڈویلیپمنٹ کے ذریعے ان کی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ان کے صحت، تعلیم اور دیگر مسائل کے حل کے لئے کام کرنا ہے۔

تقریب میں وفد کے مختلف ارکان موجود ہیں

تقریب میں وفد کے مختلف ارکان موجود ہیں

تقریب کے بعد CPADA وفد کے ممبران نے GPA کے افسران سے ملاقات کی۔ بعد ازاں وفد نے ایجوکیشن آفیسر محمد جان رضا، اسسٹنٹ آفیسر عبدالوہاب بلوچ اور دیگر افسران کے ساتھ گوادر کے مختلف سکولوں اور ہسپتالوں کا دورہ کیا اور صحت اور تعلیم کے حالات کا جائزہ لیا۔

About سلیمان ھاشم