ایک سالہ بچے کی موت پر والدین کا ڈاکٹروں کے خلاف پریس کانفرنس

فوت ہونے والے بچے کے والد اور ورثاء پریس کانفرنس کرتے ہوئے

فوت ہونے والے بچے کے والد اور ورثاء پریس کانفرنس کرتے ہوئے

28 جولائی کی شام ارشد بلوچ اور ان کے رشتہ داروں نے گوادر پریس کلب میں پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے الشفا پرائیویٹ کلینک کے ڈاکٹروں کو اپنے ایک سالہ بچے کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

پریس کانفرنس میں ارشد بلوچ کا کہنا تھا، "میرا ایک سالہ بچہ نوروز بالکل صحت منت تھا۔ ڈائریا ہونے پر علاج کے لئے ہم نے سرکاری ہسپتال پر پرائیویٹ ہسپتال کو ترجیح دی۔ لیکن جب الشفا کلینک کے ڈاکٹروں نے بچے کو غلط تشخیص کے بعد غلط ڈرپ لگائی تو بچے کا پیٹ پھول گیا اور اس کی طبیعت مزید خراب ہو گئی۔"

انہوں نے مزید بتایا کہ جب بچے کی حالت بگڑنے لگی تو والدین کے اصرار پر ڈرپ اتروائی گئی۔ طبیعت بگڑتی دیکھ کر کلینک کے ڈاکٹروں نے بچے کو تربت یا کراچی لے جانے کا کہا۔ تین گھنٹے کا سفر کر کے جب بچے کو تربت میں ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں لے جایا گیا تو بچے کی جالت تشویشناک تھی۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے مریض کو داخل کرنے سے انکار کر دیا اور کراچی کے کسی اچھے ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا۔

ارشد بلوچ کے مطابق انہوں نے فوری گاڑی کا بندوبست کر کے کراچی کے سفر شروع کر دیا مگر کراچی کے قریب پہنچنے تک بچہ دم توڑ چکا تھا۔ انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں بچے کی موت کا ذمہ دار مکران کے ڈاکٹروں کی لاپروائی اور غلط تشخیص کو قرار دیا۔

اس موقع پر ارشد بلوچ اور بچے کے دوسرے ورثاء نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام پرائیویٹ ہسپتال فوری بند کئے جائیں کیونکہ وہ جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں اور میڈیکل سٹوروں پر دی جانے والی دو نمبر اور جعلی ادویات کا فوری سدِ باب کیا جائے۔

دوسری جانے الشفا کلینک کے ڈاکٹروں کا موقف تھا کہ جب بچے کو ہسپتال لایا گیا، اس وقت ہی اس کی حالت تشویشناک تھی۔ کلینک کے ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا، "ہم ڈاکٹر ہیں، ہمارا کام اپنے مریضوں کو بچانا ہے۔ بچے کے کسی قسم کی غلط ڈرپ نہیں لگائی گئی تھی۔ اکثر والدین بچوں کو ہسپتال لانے سے پہلے انہیں عطائی ڈاکٹروں کی ادویات دیتے ہیں یا بلوچی علاج کرواتے ہیں اور جب مریض کی حالت بگڑنے لگتی ہے تو اسے ہسپتال لے آتے ہیں۔ ہم انسانی زندگیاں بچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں مگر زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔"

پاک وائسز کے نمائندے نے جب ایک میڈیکل سٹور کے مالک سے جعلی ادویات کی بابت پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ گوادر شہر کے بیشتر میڈیکل سٹورز میں جعلی ادویات بک رہی ہیں اور ان ادویات کو بیچنے والے ڈاکٹروں اور میڈیکل سٹور کی مالکان کو دنیا کے مختلف ممالک کی سیر کروانے کی آفر کی جاتی ہے تاکہ یہ ادویات زیادہ سے زیادہ بک سکیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ڈرک انسپکٹر ایماندار ہوں اور سختی سے جعلی ادویات پر کریک ڈاؤن کریں۔

واضح رہے کہ مکران میں سرکاری ہسپتالوں کی حالت بھی دگرگوں ہے۔ پچھلے دنوں پریس کلب میں ہی بی این پی کے رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں میں بہت سے ڈاکٹر ایسے ہی جو تنخواہیں لیتے ہیں مگر ڈیوٹی پر نہیں آتے۔

About سلیمان ھاشم